October 23, 2017
You can use WP menu builder to build menus

ڈھاکہ (بی بی سی اپ ڈیٹ)میانمار میں روہنگیا مسلم اقلیت کو درپیش نئی خونریزی کے آغاز سے اب تک گزشتہ دس روز میں ایسے 73 ہزار مہاجرین ہمسایہ ملک بنگلہ دیش پہنچ چکے ہیں اور اب تک ہزاروں مسلمانوں شہید کئے جاچکے ہیں اور بے شمار گھر نذرآتش کئے جاچکے ہیں ۔ تاحال جاری اس خونریزی میں سینکڑوں افراد ریاست ہلاک ہوئے اور ہزاروں گھر جلا دئیے گئے۔بنگلہ دیشی دارالحکومت ڈھاکا سے اتوار کو ملنے والی نیوز ایجنسی رپورٹوں کے مطابق اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے تصدیق کر دی کہ میانمار کی راکھین میں گزشتہ ماہ کے اواخر میں جن شدت پسندانہ حملوں اور بہت بڑے جوابی فوجی آپریشن کا آغاز ہوا تھا، اس خونریزی اور بدامنی کے دوران اپنی جانیں بچا کر بنگلہ دیش پہنچنے والے روہنگیا مہاجرین کی تعداد اتوار کی صبح کم از کم بھی 73 ہزار ہو چکی تھی۔ڈھاکا میں عالمی ادارے کے ہائی کمیشن برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کے ترجمان جوزف تری پورہ نے کو بتایاراکھین میں بدامنی اور خونریزی سے بچ کر نکلنے والے رونگیا مہاجرین ابھی تک سینکڑوں کی تعداد میں سرحد عبور کر کے بنگلہ دیش پہنچ رہے ہیں۔یو این ایچ سی آر کے مطابق میانمار سے بنگلہ دیش پہنچنے والے نئے روہنگیا مہاجرین کی تعداد سے متعلق یہ اندازے بھی کم از کم ہیں اور حقیقی تعداد اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ جوزف تری پورہ کے مطابق یہ اعداد و شمار عینی شاہدین، مقامی اداروں، حکومتی تنظیموں اور ان بین الاقوامی غیر حکومتی تنظیموں کے بیانات کی روشنی میں جمع کیے گئے ہیں، جو ان علاقوں میں کام کر رہی ہیں، جہاں یہ بے وطن مسلم مہاجرین پہنچ رہے ہیں۔میانمار سے ان مہاجرین کی زیادہ تعداد جنوب مشرقی بنگلہ دیش کے ضلع کاکس بازار پہنچتی ہے، کیونکہ یہی بنگلہ دیشی ضلع جغرافیائی طور پر میانمار کی ریاست راکھین سے جڑا ہوا ہے، جہاں سے یہ اقلیتی باشندے اپنی جانیں بچا کر فرار ہو رہے ہیں۔راکھین میں، جہاں روہنگیا مسلم اقلیت کی اکثریت رہتی ہے، ماضی میں بھی وسیع پیمانے پر خونریزی دیکھنے میں آ چکی ہے۔ وہاں تازہ ترین خونریزی اگست کی 25 تاریخ کو اس وقت شروع ہوئی تھی، جب آراکان روہنگیا سالویشن آرمی کے شدت پسندوں نے بڑے مربوط انداز میں کیے گئے مسلح حملوں میں کئی سرکاری سکیورٹی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا تھا۔اس کے بعد وہاں میانمار کی سکیورٹی فورسز نے بھرپور کارروائی شروع کر دی تھی۔ 25 اگست سے لے کر ستمبر کی تین تاریخ تک کے درمیانی دس دنوں میں راکھین میں اس خونریزی میں قریب 400 افراد شہید ہوچکے ہیں اور کم ازکم 2600 گھر بھی جلا دئیے گئے تھے۔میانمار کی فوج کے مطابق روہنگیا اکثریتی آبادی والے راکھین کی علاقوں میں ان گھروں کو مبینہ طور پر ’ارسا‘ کے روہنگیا عسکریت پسندوں نے جلایا تھا اور مقامی روہنگیا آبادی کو ان عسکریت پسندوں کی گرفتاری کے لیے سکیورٹی دستوں سے تعاون کرنا چاہیے۔دوسری طرف بنگلہ دیش پہنچنے والے ہزارہا مہاجرین نے بتایا ہے کہ راکھین میں سکیورٹی دستے نہ صرف عام روہنگیا باشندوں پر حملوں اور ان کے قتل کے واقعات میں ملوث ہیں بلکہ فوجیوں نے ان کے گھر تک بھی جلا دیے تاکہ میانمار کی حکومت کی طرف سے ’غیر قانونی تارکین وطن‘ قرار دیے جانے والے لیکن عشروں سے راکھین میں مقیم ان باشندو‌ں کو وہاں سے مکمل طور پر نکال دیا جائے۔یہ رپورٹیں بھی ملی ہیں کہ بہت بڑی تعداد میں روہنگیا مہاجرین میانمار اور بنگلہ دیش کے درمیانی سرحدی علاقے میں بھی پھنسے ہوئے ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ وہ کسی طرح بنگلہ دیش میں داخل ہو جائیں۔میانمار کی حکومت کا کہنا ہےکہ روہنگیا اکثریتی علاقوں میں گزشتہ ہفتے ڈھائی ہزار سے زائد گھروں کو آگ لگا دی گئی۔ حکومت کا الزام ہے کہ گھروں کو آگ لگانے کے ان واقعات میں روہنگیا ہی ملوث ہیں۔اسی تناظر میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش نے تشدد کے ان واقعات پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ان کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات نہ کیے گئے، تویہ ایک بہت بڑے انسانی المیے کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔

No Comments

You must be logged in to post a comment.