September 24, 2017
You can use WP menu builder to build menus

تحریر:صائمہ چوہدری

انسانی جسم د وعناصر کا مجموعہ ہےایک آب وگل سے تخلیق پانیوالا خاکی جسم اور دوسرا روحانی وجود اور ان دو عناصرکی تسکین کے سامان بھی الگ الگ ہیں ۔خاکی جسم کی تسکین کا مرکز ومحور نفسانی خواہشات اور دنیاوی لذات ہیں مگر اس کے برعکس روحانی وجود کی تسکین کے تقاضے شے دیگر ہیں۔خاکی جسم اپنی ہیت کے اعتبار سے گوشت پوست کا بنا ہوا ہے جبکہ اسکے برعکس روحانی وجود کی ساخت بالکل مختلف ہی نہیں ماورائے عقل بھی ہے کیو نکہ قرآن میں ذکر ہے کہ جب حضرت آدم علیہ السلام کا وجود خاکی ’’آب وگل‘‘سے تیار کرلیا گیا تو پھر اس میں رب تعالیٰ نے روح ربانی کو پھونکا جسے کہا گیا کہ ’’ونفخت فیہ من روحی‘‘یعنی میں نے اپنی روح میں سے پھونکا۔


ان دوعناصر کی کشمکش بھی ایک دوسرے کی ضد ہے یعنی انسان کا خاکی وجود اپنی تسکین کیلئے حرام وحلال کی تمیز بھی روا رکھنے میں چوک جاتا ہے اور اس کا میلان ہمیشہ دنیاوی لذات کی جانب راغب رہتا ہے۔مگر اس کے برعکس روحانی وجود انسان کو غلط راہ پر چلنے سے قبل ٹوکتا ہی نہیں ملامت بھی کرتا ہے جسے ہم نقس اور ضمیر کی کشمکش سے موسوم کرتے ہیں۔
انسان کے روحانی وجود کو تسکین اور آرام کے جہاں بے شمار ذرائع ہیں مثلاََ عبادات،تلاوت قرآن،مسنون وماثور اذکار ،تسبیحات وغیر ہ ہیں وہیں پر اس کا سب سے بڑا ذریعہ کعبۃ اللہ کی زیارت اور روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حاضری ہے۔میں ذاتی طور پر زاہدہ اور عابدہ ہونے کی مدعی تو نہیں ہوں مگر گزشتہ عرصے میں مجھے عمرے کی سعادت نصیب ہوئی اور وہاں پر میری زندگی پر چند اہم انکشافات ہوئے جنہیں آپ روحانی تاثرات بھی کہہ لیں تو بے جا نہ ہوگا۔
بحیثیت مسلمان ہونے کے ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اللہ کے گھر کی زیارت کرے اور جب کسی کو بلاوا آتا ہے تواس کیفیت کے اظہار کیلئے الفاظ کا ذخیرہ ہے کہ مشت غبار نظر آتا ہے اور اس کے اظہار کا ذریعہ بس جذبات ہی رہ جاتے ہیں اور ان کو سمجھانا اور کسی اور کیلئے سمجھنا مشکل ہی نہیں مشکل ترین کیفیت ہوتی ہے۔


خیر اللہ اللہ کر کے جب یہ اللہ کی بندی کعبۃ اللہ کی جانب رواں دواں ہوئی تو کیفیت قلب بھی تھی اسی کے ذکرسے سرشار تھی،بس یہ کہا جاسکتا ہے کہ آج کائنات کے سب سے بڑے ’’بادشاہ حقیقی ‘‘کی بارگاہ میں حاضری ہے اور گھبراہٹ تھی کہ کہیں کوئی ایسی حرکت نہ سرزد ہو جائے جس سے ’’رب کائنات‘‘کے دربار میں حاضری کسی بشری تقاضے کی وجہ سے اکارت چلی جائے اور ساتھ ساتھ یہ امید بھی تھی کہ وہ ’’رب الرحیم ‘‘ہےکیو نکہ ان کی تو شرط ہے کہ بس میرے دربار میں آنا لازم ہے ،رحمتوں کی بارش کردوں گا۔اسی کشمکش ذہنی کے ساتھ ایک عاجز باندی جب چھوکٹ پر پہنچی اور نظرکعبۃ اللہ پر پڑی تو آنکھیں بے ساختہ شان باری تعالیٰ کی تاب نی لاکر جھک گئیں اور اظہار تشکر کے طور پر ان سے آنسوؤں کی برسات کی جھڑی رواں ہو گئی۔دوبارہ نظر اٹھا کر دیکھا تو یقین نہیں آرہا تھا کہ اللہ کا گھر اور یہ گناہ گار۔ہیبت باری تعالیٰ کا جلال اگر کسی نے دنیا میں دیکھنا ہوتو وہ کعبۃ اللہ کا نظارہ ہے۔اب تھا کہ جسمانی کیفیت بدل گئی اور میں دنیا مافیہ سے بے خبر ہو گئی سب رشتے ناطے تھے کہ ذہن سے محو ہوگئے،کچھ یاد نہ رہا ،یادوں کا سارا ذخیرہ تھا کہ منتشر ہوگیا،بس رب کا جلال تھا اور میں گناہ گار۔طواف کرتے ہوئے بھی نظر تھی کعبۃ اللہ سے ہٹتی نہ تھی اور زبان تھی کہ ’’لیبک اللھم لیبک ‘‘کے ورد سے لبریز تھی۔


کعبۃ اللہ میں رب تعالیٰ کے سامنے حاضری کا احساس تھا کہ ہر رشتے ناطے،دنیاوی لذتوں،ماضی کی یادوں اور مستقبل کی پلاننگ سے بےخبر رکھتا تھا۔بس کیفیت یہی تھی کہ ’’رب راضی ہوجائے‘‘ اورایک ’’نظرکرم‘‘اس عاصی پر پڑ جائے۔نمازوں کی کیفیت اور لذت ایسی تھی کہ کبھی نہ ہوئی۔طبعیت کی بیقراری ایسی کبھی نہ تھی کہ کوئی مانوس آواز اور ہردلعزیز رشتہ یادآجائے اور رب تعالیٰ سے ایک لمحے کیلئے دور کردے۔مکہ میں قیام کے دوران کعبۃ اللہ سے ایسی رغبت ہوئی کہ اب آنکھوں کو کوئی شے بھاتی ہی نہ تھی۔دل تھا کہ کعبۃ اللہ کی شکل میں رب تعالیٰ کی ہیبت سے لرزاں رہتا تھا۔ذہن میں بس ایک ہی دھن سوار تھی کہ یہ کیفیت ہمیشہ برقرار رہے اور کسی لمحے بھی اس کیفیت سے باہر نہ نکلا جائے۔خاکی وجود کے تقاضے بھی تھے کہ یکسر بھولے ہوئے تھے کہ کیوں کھانے پینے اور لذت شکم میں وقت برباد کیا جائے اور جس دن مکہ سے مدینہ کو روانگی کا وقت آیا تو قلبی کیفیت تھی کہ دنیاوی رشتوں کے ہجر وفراق تو بس ایویں ہیں اصل ہجر وفراق تو یہ ہے کہ جس کی کیفیت کو میں اس طرح بیان کرونگی کہ جسم اور روح کا تعلق ہے کہ ٹوٹ رہا ہے۔رب تعالیٰ اور اسکی عاجز بندی میں جدائی ہورہی ہے اور کوئی قیمتی شے ہے کہ چھن رہی ہے۔کعبۃاللہ کے غلاف کی خوشبو تھی کہ جو بھولتی نہیں کہ جس سے میری محبت کا عالم یہ تھا کہ میں دوران طواف چھپ کرکعبۃ اللہ کے فرش پر بیٹھ کر اسکی دیوار سے چمٹ جاتی تھی۔غلاف کعبہ کو چھو کر جو احساس لذت ملتا تھا وہ کسی اور شے میں نہیں۔آب زم زم کی تسکین ،حجرہ اسود کی زیارت،مقام ابراہیم کا سکون گو یہ سب کچھ چھٹ رہا ہے۔آنکھیں تھیں کہ پُر نم تھیں ،جسم اور روح پہلی بار یکجا نظر آئے اور دونوں کی خواہش تھی کہ یہاں سے نہ جایا جائے۔مگر کیا تھا یہ جدائی اس احساس کے ساتھ برداشت کی اللہ کے حبیب ﷺ نے بھی تو اس کو باامر مجبوری چھوڑا تھا اور مدینہ ہجر ت کی تھی سو اسے سنت سمجھو اور چلو تم بھی مدینے چلو۔


جب مکہ سے بس مدینے کی جانب چلی تو کیفیت ایسی تھی کہ اصل گھر چھوٹ گیاسب کچھ چھن گیا مگر جب مدینہ حاضری ہوئی تو کیفیت تھی کہ دامن ’’رحمت العالمین‘‘میں آگئے مگر کعبۃ اللہ تھا کہ دل وہیں رہ گیا۔حضور ﷺ کی بارگاہ میں پہنچ کر امان تو ملی ،قلبی سکون بھی میسر آیا،روضہ مبارک رحمت العالمینی کا مرکز تو لگا مگر کعبۃ اللہ کی انسیت تھی کہ بھول نہیں پاتی تھی۔مدینہ قیام کے دوران بارہا دل چاہا کہ ایک لمحے کیلئے ہی سہی مگر کعبۃاللہ ہوکر کے آؤں،وہاں طواف کروں،تسبحیات سے دوبارہ ہمکلام باریٰ تعالیٰ ہوں،غلاف کعبہ سے دوبارہ لپٹوں اور چمٹوں،دیواریں کے بوسے لوں، باب ملتزم کے سامنےہاتھ بلند کر کے دعائیں اور مناجات کروں،دوبارہ آغوش باری تعالیٰ نصیب ہوجائے مگر مجبوریاں تھیں کہ پاؤں کی بیڑیاں بن گئیں۔مدینہ میں قیام کے دوران گبند خضریٰ تھا کہ نظر پڑتے ہی آقاﷺ کی غلامی کا احسا س اجاگر کردیتا تھا اور مدینہ میں قیام کے دوران یہ کیفیت بن چکی تھی اب اگر جسم وجان کی تار ٹوٹنی ہے تو ابھی ٹوٹ جائے اور مدینہ ہی میرا مدفن بن جائے اور قیامت کے روز شفاعت محمدی ﷺکے ساتھ ساتھ رفاقت مصطفیﷺ بھی نصیب ہوجائے۔ابھی مدینے میں دل اٹکا ہی تھا اور رحمت العالمینی کے دامن میں سکون میسر آیا تھا کہ ایک بار پھر مدینہ چھوڑنا پڑا اورمکہ کا سفر شروع ہوا،دل تھا کہ روضہ رسول ﷺ کی حاضری سے ملول تھا،آنکھیں فرط جذبات سے نمناک تھیں ،ہچکیاں تھیں کہ رکنے کا نام نہیں لے رہیں تھیں اور کیفیت وہی تھی جب بچے کو اس کی ماں سے چھین کر اس سےہمیشہ ہمیشہ کیلئے دور کردیا جائے اور بچہ بھی لپک لپک کر ممتا کی جھولی میں آنے کو بے تاب ہو۔اس صورتحال میں محسو س ہوا کہ ’’دل ‘‘کعبۃ اللہ میں رہ گیا تھا تو’’روح‘‘روضہ رسول ﷺ کی مکین ہو گئی ہے ۔اسی کیفیت میں دوبارہ مکہ آمد ہوئی تو کعبۃ اللہ کی حاضری نے روضہ رسول ﷺ کی جدائی کے احساس کو کسی حد تک کم تو کیا مگر بھولنے نہیں دیا۔کعبۃ اللہ آمد کے بعد دوبارہ وہی قلبی لگاؤ اور انسیست بیدار ہو گئی۔اب پھر اللہ کی بندی یعنی میں اور خالق کا ئنات کی قربت ،تسبیح ومناجات ،دعائیں،تلاوت اوریہ رب تعالیٰ کی قربت اور اس سے ہمکلامی کےذرائع تھے۔پھر وہ دن بھی آگیا کہ اب واپس پاکستان جانا ہے گویا اب نہ کعبۃ اللہ کا طواف ہوگا اور نہ دربار نبیﷺ کی حاضری،طبعیت میں عجب سی بے چینی تھی،گھبراہٹ اور بیقراری تھی اور دعا تھی کہ باریٰ تعالیٰ موت برحق ہے تو پھر مدفن حجاز مقدس ہی کیوں نہ ہو مگر مشیت الہٰی میں ایسا کچھ نہ تھا یا یہ کہنا بہتر ہوگا کہ مقدس سرزمین ہمارا مدفن بنے ،ہمارا مقد ر نہیں ہے۔انتہائی بوجھل طبعیت اور بیقراری میں ہمارا سفر عمرہ مکمل ہوا۔
یہاں ایک وضاحت بھی ضروری سمجھتی ہوں کہ اس تحریر کا مقصد کسی طور دکھاوا یا اپنے عبادت گذار ہونے کا تاثر دینانہیں ہے بلکہ میں اپنے ٹوٹے پھوٹے مشاہدات کو اس لئے بیان کررہی ہوں کہ شاید کسی کے دل کی بیقراری میری اس تحریر سے بڑھے اور وہ مکہ اور مدینہ عمرہ یا حج کیلئے جائےاور خزینہ روحانیت سے استفادہ کرسکے اور اس کا یہ عمل میرے لئے بھی صدقہ جاریہ بن جائے اور میری نجات کی راہ ہموار ہوسکے ۔اللہ تعالیٰ مجھے اور سب کو اپنے گھر کی زیارت نصیب فرمائے اور ہمیں اپنے دین رشد پر عمل کرنے والا بنادے،آمین ،ثم آمین۔

No Comments

You must be logged in to post a comment.