September 24, 2017
You can use WP menu builder to build menus

تحریر:مرزا ندیم بیگ

ارشد اعوان سے میری پرانی دوستی ہے ۔پہلی نظر میں وہ انتہائی سادہ لوح دیہاتی نظر آتے اور لگتا نہیں کہ شاعری کے ذریعے الفاظ کو ایک تسبیح میں پرونے کا فن جانتے ہیں ۔میرے دوست ارشد اعوان کا تعلق بھی چونکہ ’’بلھےکے کے پنجاب‘‘سے ہے اور ان کا رچاؤاپنی مٹی اور وسیب سے اس حد تک ہے کہ انہوں نے اپنی شاعری کیلئے بھی ’’بلھے کی زبان ‘‘پنجابی کو ذریعہ بنایا اور اپنی کتاب کا عنوان بھی ’’بلھے دا پنجاب‘‘رکھا۔بلھے شاہ چونکہ پنجاب کا’’اثاثہ‘‘ہیں اور انکی شاعری پنجاب کا ’’ورثہ ‘‘ہے اور اسی’’اثاثے اور ورثے‘‘کےامین اب ارشد اعوان ہیں اور انہوں نے اپنی بے مثل شاعری کے ذریعے بلھے شاہ کے’’اثاثے اور ورثے ‘‘کے فروغ اور اضافےمیں مصروف ہے۔


ارشد اعوان کی شاعری کا اگر مختصر الفاظ میں جائزہ لیا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ وہ شاعری کے اسرار ورموز سے پوری طرح واقف ہیں اور وہ اپنے اندر ایک منجھے ہوئے شاعر کی خصوصیات رکھتے ہیں اور وہ پنجاب کے ثقافتی اور ادبی ورثے سے بہت ہی حد تک جڑا ہوئے ہیں اور یہی وجہ ہے ارشد اعوان اپنی شاعری میں پنجاب کے رنگ کو نمایاں کرتے نظر آتے ہیں ۔پنجابی تو خیر ان کی ’’ماں بولی‘‘ہے ،مگر وہ ’’قومی زبان اردو‘‘میں بھی جب طبع آزمائی کرتے نظر آتے تو لگتا نہیں کہ وہ محض پنجابی زبان کے شاعر ہیں ۔

ختم ہوجاتے ہیں سخن سے گلابوں کے تذکرے
دیوان بدل جاتا ہے ،کلیات بدل جاتے ہیں
محبت تو محبت ہے،یہیں رہتی ہی ارشد
انسان بدل جاتا ہے مقامات بدل جاتے ہیں

ارشداعوان پنجاب کے ضلع سیالکوٹ کے ایک گاؤں ’’ہرپال‘‘سے تعلق رکھتے ہیں اور زمیندار گھرانے سے تعلق ہے تو وہ پنجاب کی مٹی کو سونا بنانے کا فن بھی جانتا ہے یعنی عملی طور پر ’’کسان ‘‘بھی ہیں اور انہیں اپنےاس تعارف پر کبھی کو عار محسو س نہیں ہوئی اور یہی وجہ ہے کہ وہ ’’مردہ اور بے جان الفاظ‘‘کو شاعری میں ’’حیات اور زندگی ‘‘ بخش دیتے ہیں۔ارشد اعوان کو اگر میں ان کے پس منظر کی بناء پر ’’گڈری کا لعل ‘‘قرار دوں تو بے جا نہ ہوگا۔

ارشد اعوان چونکہ خود سادہ طبعیت کے مالک ہیں تو وہ شاعری کے مشکل انگوں کو بھی انتہائی سادگی سے پیش کرنے کا فن بخوبی جانتے ہیں۔ارشد اعوان کی ایک اور خوبی ہے کہ وہ محض ’’گل ورخسار اور مٹیارووں کی اداؤں ‘‘ کی شاعری کرتے نظر نہیں آتے بلکہ ان کی شاعری میں سماجی ناہمواری،فرسودہ روایات اور معاشرتی خامیوں کی بھی نشاندہی ملتی ہے اور شاعر کا کرنے کا اصل کام یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ معاشرتی اور سماجی ناہمواریوں کے خلاف بھی آواز اٹھائے اور اصلاح قوم کا فریضہ سرانجام دے۔

جان گنوانی سوکھی ہوگئی
دھی ویانی اُوکھی ہوگئی
کسی دے لیکھی پین ناں وٹے
ربانہ کتےِ چولہا پٹھے

ارشد اعوان کا چونکہ یہ پہلا شعری مجموعہ ہے جو منظر عام پر آیا ہے اور ابھی ’’عشق کے امتحاں اور بھی ہیں ‘‘کے مصداق انکے مزید شعری مجموعے سامنے آئیں گے اور ان کا پہلا شعری مجموعہ ’’بلھے داپنجاب‘‘یقیناََ قارئین کے دلوں پر اثر چھوڑے گا۔بس دعا ہے اللہ ارشد اعوان کی سوچ ،شعری تخیل اور الفاظ کے ذخیرے میں اضافہ فرمائے ۔آمین
(نوٹ:(یہ مضمون برادرم ارشد اعوان صاحب کے پہلے شعری مجموعے’’بلھے دا پنجاب ‘‘کیلئےتحریر کیا گیا ہے

No Comments

You must be logged in to post a comment.