September 24, 2017
You can use WP menu builder to build menus

تحریر:سید ہمایوں کبیر

کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک بادشاہ نے اعلان کیا کہ رعا یا پر نیا ٹیکس لگایا جائےاس نے کہا کہ شہر سے جوبھی باہر جائے گا اس کو ٹیکس ادا کرنا پڑے گا کچھ دنوں کے بعد اس نے اپنے وزیر سے پوچھا کہ رعایا کا حال ہے وزیر نے بتایا کہ رعایاخوش ہے۔ اب بادشاہ نے وزیر سے کہا ایک اور ٹیکس لگایا جائے کہ جب لوگ واپس آئیں گے تو ان کوٹیکس دینا پڑ ے گا۔ رعایا نے اس پر بھی آواز نہیں اٹھائی۔ کچھ دنوں کے بعد بادشاہ نے وزیر سے پوچھا کہ رعایا کی طرف سے کوئی آواز اٹھی ،وزیر نے کہا کہ نہیں رعایا بہت خوش ہے۔ بادشا نے اعلان کیا کہ اب شہرسے باہر جانے والوں کو ٹیکس کے علاوہ پانچ جوتے بھی لگائے جائیں کچھ دنوں کے بادشاہ نے پھر وزیر سے پوچھاکہ عوام کی طرف سے کو ئی جواب وزیر نے کہا کہ جناب عوام بہت خوش ہیں۔ بادشاہ نے اعلان کیا کہ اب شہر میں واپس آنےوالوں کو بھی پانچ جوتے لگائے جائیں گے ،کچھ دنوں بعد بادشاہ نے وزیرسے پوچھا کہ عوام کی طرف سے کوئی جواب وزیر نے ہمیشہ کی طرح جواب دیا کہ عوام بہت خوش ہیں بادشاہ نے رعایا سے سوال و جواب اور مشکلات کے بارے میں جاننے کے لئے دربار سجایا اور عوام سے پوچھا کہ کوئی مسئلہ کوئی تکلیف عوام نے عرض کی حضور کوئی تکلیف نہیں صرف جوتے مارنے والے بندے کم ہیں وہ بڑھا دیں حضور اس کے علاوہ کوئی مسئلہ نہیں۔
یہی آج کل سب سے بڑامسئلہ اوورسیز پاکستانی کمیونٹی کا ہے کیونکہ ان کی مشکلات کا تو کوئی حل نہیں لیکن جوتے مارنے والے بندے دن بدن بڑھائے جا رہے ہیں پہلے کبھی او پی ایف کے نام پر لوٹا جاتا تھا لیکن موجودہ حکومت نے اپنے دوستوں کو نوازنے کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع کر دیا ہے ۔ہوسکتا ہے کہ اس میں حکومت نیک نیتی ہو ۔اورسیز ہیلپ ڈیسک کے نام سے ڈی پی او آفس میں دفتر بنائے گئے اور اورسیز کو کہا گیا کہ یہ آپ کا دفتر ہے اس کی تعمیر اس کی تزئین و آرائش کی ذمہ داری بھی اورسیز پاکستانیوں کی ہے اور اس کی تعمیر کے بعد جس طرح اورسیز کولوٹا گیا وہ سب اوورسیز نے دیکھا ان کی دیکھا دیکھی ڈی سی آفس میں ایک اوورسیز ہیلپ ڈیسک بنا دیا گیا اور اوورسیز کو لوٹنے کا مقابلہ شروع ہوگیا اور جن کے ساتھ دوستی ہوجاتی، ان کے کام ہوجاتے اور کچھ اور سیز دوستوں کی مدد بھی ان کہ حاصل ہوتی اور ڈی پی او اور ڈی سی او صاحبان کے ساتھ تصاویر بنوانے کے لئے بھی مختلف طریقوں سے نذر نذرانے لئے جاتےاور بیچارے اور سیز ضلعی سربراہان کے ساتھ فوٹو بنوا کر اپنے دوستوں دیکھاتے رہتے ۔ ان بیچاروں کو کیا معلوم تھا جب بھی وہ ضلعی سربراہان سے دوبارہ ملنے کے لئے جائیں گے تو دوبارہ مڈل مین کی ضرورت ہوگی یا اپنے جائز کاموں کے لئے بھی اس طرح ذلیل ہونگے جیسے پہلے ہوتے تھے ۔
میرے بہت سارے سادہ لوح اوورسیز ابھی بھی بہت سارے ضلعی سربراہان کی فوٹواپنے گھروں اور دفتروں میں سجائے ہوئے ہیں اور ان ضلعی سربراہان کو معلوم بھی نہیں ہوگا کہ بہت سارے نوسر باز بیچارے اوورسیز کے ساتھ ان کے نام پر فراڈ کر رہے ہیں جب اوور سیز نے اس سے منہ موڑا تو سی پی ایل سی کے نام پر نیا کام چلا یا گیا اس بھی مڈل مین موجود تھے جو اوورسیز کو گھیر گھار کر لاتے پھر جب یہ سلسلہ بھی کچھ ماند پڑاتو اور سیز کمیشن کے نام پر نیا کام شروع ہوگیا۔جس کے دفاتر پیجاب کے مختلف اضلاع میں دفاتر بنائے گئے کمشنر مقرر کئے گئے۔ اور پھر وہی سلسلہ شروع ہوگیا جن لوگوں کی رسائی ہو جاتی وہ فوٹو کھینچوا کر لاکے اخبارات میں چھپوا کر اپنے تعلقات بتاتے یہ سلسلہ یہیں تک نہیں رکا ۔کبھی صوبائی اور کبھی مرکزی اوور سیز کمشین کے نام پر اپنے دوستوں کو نوازا گیا کبھی صوبائی محتسب اعلیٰ اور کبھی مرکزی محتسب اعلیٰ کے نام پر بےوقوف بنایاجاتا رہا ۔جھوٹے وعدوں کے ساتھ اور اوورسیز کمیونٹی کی فلاح بہبود کے لئے کوئی کام نہیں کیا جا تا اور صرف یورپین ملکوں کے سیر سپاٹے کے لئے وفودتشریف لاتے ہیں اور مڈل مین انکی خدمت بھی پاکستانی کمیونٹی سے فوٹو کے ساتھ کرواتے ہیں بہت سارے نام نہادلیڈران اور خدمت گذار اوور سیز کمیونٹی کی خدمت کے نام پر اپنی خدمت کرواتے نظرآتے ہیں اور بیچاری پاکستانی کمیونٹی کی خدمت میں بھی مقابلہ کرتی ہوئے نظر اتی ہے اور بہت سارے لوگ پاکستان سے بیورو کریٹ اور سیاستدانوں کو سیر کروانے کا کہہ کر ان کے اعزاز میں ہونے والی تقریبات اور کھانوں اور فوٹو کہ بیچتے ہیں لیکن پاکستانی اورسیز کمیونٹی کے لئے ابھی بندے کم ہیں ان کےلئے بندے بڑھائے جائیں ۔

No Comments

You must be logged in to post a comment.