September 24, 2017
You can use WP menu builder to build menus

تحریر:صائمہ چوہدری

پاکستانی کی عدالتی تاریخ اتنی تابناک بھی نہیں کہ جس پر فخر کیا جاسکے کیو نکہ جو عدالتیں ماضی میں ’’نظریہ ضرورت‘‘کے تحت آمروں اور طالع آزماؤں کے غیر آئینی اقتدار کو ’’سند جواز اور دوام‘‘ بخشتی رہی ہوں،ان کے بارے میں کس اعتبار سے فخر کیا جاسکتا ہے ۔انہی عدالتوں نے ایک منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی کو پھانسی کا پروانہ دیکر دنیا کی تاریخ میں پہلی بار ’’عدالتی قتل ‘‘ کی بنیاد رکھی تو دوسری جانب ایک وزیراعظم کو محض ایک خط نہ لکھنے پر ’’نااہل‘‘قرار دیدیا تھا تو ایسے میں ان عدالتوں سے کسی بڑے خیر کی توقع رکھنا بے سود اور عبث ہے۔
زیادہ دور کیوں جائیں پانامہ کیس کو ہی لے لیجئے کہ پاکستانی عدلیہ نے کوپہلے سماعت کے نام قوم اور اپنے ادارے کا قیمتی وقت برباد کیا اور پھر ستاون دن تک جس طرح قوم کوالو بنا کرفیصلے کو’’ محفوظ‘‘رکھا،ناقابل فہم ہے اور بالآخر پاکستان کی سیاست کے کرپٹ ترین خاندانوں کو ’’سزا کی بجائے سہارا‘‘دیدیا اور ’’محفوظ ‘‘فیصلے سے ایکبار پھر ملکی وسائل اور قومی خزانے کو ’’غیر محفوظ‘‘بنادیا ہے، ایسا طرزعمل اختیار کرنیوالی اور ایسا فیصلہ سنانے والی عدلیہ کو تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی ۔ایک عام فرد سے لے کر باشعور اور پڑھے لکھے فرد تک ہر کوئی جانتا ہے کہ موجودہ حکمران خاندان چوروں کا ٹولہ ہے اور اس نے جس نوع کی کرپشن کو ملک میں متعارف کروایا ہے وہ انہی کا خاصہ ہے۔ اس خاندان کی حالت یہ ہے کہ عوام کی ہڈیوں کا گودا تک نچوڑ کر بیرون ممالک بینکوں کی تجوریوں کو بھر اہے ہیں اورجائیدادیں خریدیں ہیں ان کی کرپشن اور بدعنوانی جس کے سارے ثبوت اور گواہ بھی موجود ہیں اور ان کے خود اپنے بندوں نے ماضی نے منی لانڈرنگ کرنے کے اعترافات کئے ہیں اورانکے ’’وعدہ معاف ‘‘بننے کی تمام دستاویزات موجود ہیں ۔وزیراعظم نواز شریف نے پارلیمنٹ سے لے کر پی ٹی وی کی تقریروں تک میں دھڑلے سے جھوٹ بول کر اپنے ’’صادق اور امین‘‘ نہ ہونے پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے اور آئین کی شق62 اور63 کی توہین کرکے اپنی نااہلی کی بنیاد فراہم کردی ہے مگر’’معزز ججز‘‘ ہیں کہ عام آدمی کو روٹی چرانے پرتو نشان عبرت بنادیتے ہیں اور دوسری جانب کسی حکمران کو ملکی وسائل لوٹنے اور قومی خزانہ لوٹنے پر ’’ایمانداری ‘‘ کا سرٹیفکیٹ عطا کرتے نظر آتے ہیں ۔گویا کیفیت وہی ہے کہ۔۔۔

ہم بچاتے رہ گئے دیمک سے اپنے گھر مگر
چند کیڑے کرسیوں کے ملک سارا کھا گئے

مجھ سمیت پوری عوام کو گلہ اس چور، خائن اور ڈاکو خاندان سے نہیں ہے کیونکہ ڈاکو کا کام ڈکیتی کرنا ہوتا ہے لیکن سپریم کورٹ کے ججز ۔۔۔اور خاص طور پر ’’چیف جسٹس آف پاکستان‘‘آپ نے پانامہ پیپرزکیس میں جس طرح سے غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے ،اس پر افسوس صد افسوس کی کیفیت ہے ۔’’جناب چیف جسٹس ‘‘ آپ کو غریب قوم کے کمر توڑ کمائی سے ادا کردہ ٹیکسوں کے پیسے سے بھاری مراعات،عالی شان رہائشیں ،لگژری گاڑیاں ،پروٹوکول اور تنخواہیں اس لیے نہیں دیں جاتیں کہ آپ عوام کی امیدوں کا خون کردیں،انصاف کی دھجیاں بکھیریں اور اپنے منصب کو بے توقیر کریں ۔۔۔۔۔ذرا سوچئے کہ کیا آپ نے ایک غیر منصفانہ فیصلہ کرکے اپنی قبر کو بھاری نہیں کیا ۔۔۔کیا آپ بھول گئے کہ آخرت میں رب تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا ہے جو سب سے بڑا منصف اور حاکم اعلیٰ ہے اور اس کی عدالت سے اس وقت قدم نہیں ہل سکیں گے جب تک آپ نے اپنی کارگزاری بارے تفصیلاََجواب نہ دیا۔
بدقسمتی سے ہمارے عدالتی نظام کی بے انصافیوں کی’’نحوست‘‘ہے جو پاکستان اس حال میں ہے کہ عوام ظالمانہ نظام کی چکی میں پس رہے ہیں اور دوسری جانب حکمران اور جج صاحب !آپ جیسا مراعات یافتہ طبقہ اللے تللوں میں مصروف ہے۔۔۔۔۔چیف جسٹس صاحب ! ڈرو اس وقت سے جب کبھی اس ملک میں محب وطن اور ایمانداروں لوگوں کا دور آئے گا تو یقین رکھو وہ دن آپ کیلئے یوم حساب ہوگا ۔۔۔ہم وہ نہیں ۔۔۔جو انصاف کو قیامت کے دن تک ٹال دیں ۔۔۔ اور یقین ہے کہ روز حساب ہوگا اور اسی دنیا میں ہوگا ۔۔۔آپ بس وقت کی گردش دیکھتے رہیئے ۔۔۔کیونکہ وقت بڑا بے رحم ہے ۔۔۔ یہ کبھی ایک سا نہیں رہتا اور وہ منظر بھی برپا ہوگا جس کے بارے میں فیض احمد فیض نے کہا ہے کہ ۔۔۔۔

دربارِ وطن میں جب اک دن سب جانے والے جائیں گے
کچھ اپنی سزا کو پہنچیں گے ، کچھ اپنی جزا لے جائیں گے
اے خاک نشینو اٹھ بیٹھو، وہ وقت قریب آ پہنچا ہے
جب تخت گرائے جائیں گے، جب تاج اچھالے جائیں گے
اب ٹوٹ گریں گی زنجیریں اب زندانوں کی خیر نہیں
جو دریا جھوم کے اُٹھے ہیں، تنکوں سے نہ ٹالے جائیں گے
کٹتے بھی چلو، بڑھتے بھی چلو، بازو بھی بہت ہیں، سر بھی بہت
چلتے بھی چلو، کہ اب ڈیرے منزل ہی پہ ڈالے جائیں گے
اے ظلم کے ماتو لب کھولو، چپ رہنے والو چپ کب تک
کچھ حشر تو اِن سے اُٹھے گا، کچھ دور تو نالے جائیں گے

No Comments

You must be logged in to post a comment.