September 24, 2017
You can use WP menu builder to build menus

سنگا پور (بی بی سی اپ ڈیٹ)گائے یا بکرے کے گوشت کا بہت زیادہ استعمال ذیابیطس جیسے جان لیوا مرض کا خطرہ بڑھاتا ہے۔یہ بات سنگا پور میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ڈیوک این یو ایس میڈیکل اسکول کی تحقیق میں لوگوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ سرخ گوشت اور مرغی کا معتدل مقدار میں استعمال ہی صحت کے لیے بہتر ہے اور زیادتی ذیابیطس جیسے خاموش قاتل کا خطرہ بڑھاتی ہے۔تحقیق کے دوران 45 سال سے 74 سال کی عمر کے 63 ہزار سے زائد افراد کا جائزہ 1993 سے اب تک لیا گیا۔نتائج سے معلوم ہوا کہ بہت زیادہ گوشت کھانے اور ذیابیطس کے مرض کے درمیان تعلق پایا جاتا ہے۔زیادہ مقدار میں گائے یا بکرے کا گوشت کھانا ذیابیطس کا خطرہ 23 فیصد جبکہ زیادہ چکن اس مرض کا امکان 15 فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔تحقیق میں بتایا گیا کہ سرخ گوشت اور چکن کی جگہ مچھلی کھانا ذیابیطس کا خطرہ نہیں بڑھاتا۔محققین کا کہنا تھا کہ غذا سے گوشت کو نکالنا تو صحت کے لیے نقصان دہ ہے کیونکہ ان میں متعدد صحت بخش اجزاءپائے جاتے ہیں، تاہم اعتدال بہت ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کو صحت بخش غذاﺅں کا انتخاب کرنا چاہئے تاکہ ذیابیطس جیسے مرض کا خطرہ کم کیا جاسکے۔ان کے بقول گوشت میں پائے جانے والے ہیم آئرن اور ذیابیطس کے خطرے کے درمیان موجود ہے تاہم ابھی اس کی واضح وجہ سامنے نہیں آسکی ہے۔

No Comments

You must be logged in to post a comment.