September 24, 2017
You can use WP menu builder to build menus

تحریر:صائمہ چوہدری

سکول میں چھٹی کی گھنٹی بجتے ہی خوشی سے اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہوئے۔ خوشی سے پھولے نہ سماتے بچے ایک دوسرے سے ویک اینڈ کا پلان بناتے ہنستے مسکراتے جا رہے تھے۔
اپنی بے پناہ خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ہنی نے عروج سے کہا ہم ویک اینڈ پر اپنی پھوپھو کے گھر لاہور جائیں گے۔اچھا! ہنی ہم لوگ اسلام آباد جا رہے وہاں پاپا کے دوست کی شادی ہے ہم لوگ سوموار کی رات واپس آئیں گے۔
پھر تو آپ لوگ بہت مزے کرو گے؟ ان کے ساتھ ساتھ چلتے ان کی باتیں بڑے غور سے سنتے عینی بولی تو ہنی نے حیران ہو کے پوچھا آپ لوگ کہیں نہیں جا رہے ویک اینڈ پر؟
نہیں یار ہم خوب سوئیں گے اور امتحانات کی تیاری کریں گے آپ کو پتہ ہے میں پڑھائی پر سب کچھ قربان کر سکتی، پر ماما تو بہت ہی خوش ہیں۔
کیوں ہنی نے حیرانگی سے پوچھا؟ عینی نے مسکراتے ہوئے کہا اس لیےکے ان کو دو دن صبح سویرے اٹھ کر ناشتہ نہیں بنانا پڑے گا ۔ہاں واقعی عروج نے چلتے چلتے گفتگو میں حصہ لیا اس بار 1یکم مئی کی چھٹی سوموار کو ہونے کی وجہ سے بچے اور بڑے سب خوش ہیں۔
اوکے گرلز بائے بائے۔
ہائی سٹینڈر سکول کے سٹوڈنٹس کی باتیں سنتے ہوئے ثمرہ بہت حسرت سے ان لڑکیوں کی باتیں سن رہی تھی۔ ثمرہ ایک غریب مزدور کی بیٹی ہے اس کا سرکاری سکول عینی عروج اور ہنی کے ہائی سٹینڈر سکول کے ساتھ پچھلی گلی میں تھا۔ وہ سوچ رہی تھی کہ وہ بھی اپنے ابو کو ویک اینڈ پہ کہیں نہ کہیں جانے کا بولے گی۔۔۔۔۔
سمیر ،یار سو کے ویک اینڈ کا بیڑا غرق نہ کرو ،کہیں چلتے ہیں یار کوئی جگاڑ لگا، میرے دوست احمر نے سمیر کی منت کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔یار میری بات سن میرا باپ تیرے باپ کی طرح جاگیر دار ہوتا تو میں روز ان کی ’’رینج روور‘‘گاڑی لے کر کہیں نہ کہیں نکلا رہتا۔۔۔اٹھ میری مان لے۔ لمبا ویک اینڈ ہے اس بار کاغان چلتے۔ گرمی سے بھی جان چھوٹے گی تو سمجھتا کیوں نہیں۔
اوکے یار یہ لے میرا اے ٹی ایم اور سارے انتظام کر کے جاتےوقت مجھ کو اٹھا لینا پہلے رات بھر لمبے ویک اینڈ کی وجہ سے دوستوں نے سونے نہیں دیا۔
اب مجھ کو تب تک شکل نہ دکھانا جب تک کاغان جانے کے سارے انتظامات مکمل نہیں کر لیتے۔سمیر نے آنکھیں بند کرتے ہوے کہا۔
اوکے باس۔۔۔۔ سو جاؤ
دوست ہو تو تمہارےجیسا اب آئے گا ویک اینڈ کا بھرپور مزہ یہ کہہ کر احمر کمرے کا دروازہ کھول کر باہر آتے ہوئے الہیٰ بخش سے ٹکرا گیا ، معافی چاہتاہوں صاحب جی الہیٰ بخش اپنا گرا ہوا سامان اکٹھا کرتے ہوئے بولا۔
ٹھیک ہے بھائی اس لیے معاف کر رہا ہوں کہ اس وقت میں بہت خوش ہوں کیوں کہ مابدولت سیرکو جا رہیں ۔ آپ بھی چھٹی کرو اور انجوئے کرو بھائی زندگی انجومنٹ کا نام ہے احمر نے اے ٹی ایم کارڈ ہوا میں اچھالتے ہوئے کہا۔۔۔۔الہی بخش اپنے مالک کے بیٹے اور اس کے دوست کی باتیں سنتا ہوا اپنے گھر کی طرف چل دیا۔
اس کو مالک نے بڑی تسلی دی کہ اگر وہ چھٹی کے دن بھی اوور ٹائم لگا کے اس کے گھر کا پنیٹ مکمل کر دیتا ہے تو وہ اس کو دوگنی مزدوری دے گا۔۔۔۔گھر پہنچنے تک الہی بخش کے ذہن میں دوگنا مزدوری کی ہی بات گردش کر رہی تھی وہ سوچ رہا تھا کہ میں دو دن اوور ٹائم لگا کر ثمرہ کی ٹوٹی سینڈل کی جگہ نیا جوتا خرید ہی لوں گا وہ انہی سوچوں میں تھا کہ گھر آ گیا۔گھر پہنچ کر الہی ٰبخش رنگ سازی کا سامان ایک طرف رکھ کر ہاتھ دھونے لگا۔
سلام ابو جان ثمرہ نے الہیٰ بخش کو تولیہ دیتے ہوئے کہا ابو کھانا لاؤں؟ ہاں بیٹا بہت بھوک لگی ہے جلدی لاؤ ۔۔۔۔جی ابو جی ابھی لائی۔۔۔ابو ایک بات پوچھو ں ؟ثمرہ نے الہیٰ بخش کو کھانا دیتے ہوئے سوال کیا۔ جی ! میری جان الہیٰ بخش نے روٹی کا نوالہ منہ میں لے جاتے ہوئے کہا۔۔۔ثمر ہ بولی ابو سب لوگ ویک اینڈ پر کہیں نہ کہیں جا رہے ہیں ہم کہاں جائیں گے۔۔۔؟
ثمرہ الہیٰ بخش کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔۔۔۔الہیٰ بخش ثمرہ کی بات سن کر گم سم ہو گیا۔۔۔کچھ لمحوں بعد وہ بوجھل سے لہجے میں بولا بیٹا !ویک اینڈ انجوئے کرنا ہم لوگوں کے بس کی بات نہیں یہ تو بڑے لوگوں کے کرنے کے چونچلے ہیں۔ تو بتا بیٹا کس رنگ کا جوتا لو گی۔
ابو جان سکول کے شوز ٹوٹ گئے آپ وہ لا دیں ۔الہیٰ بخش نے کہا کہ پر بیٹا آپ تو دو ماہ سے ہیل والے جوتے کی ضد کر رہی تھیں ۔۔۔
تو ثمرہ نے کہا کہ سکول میں ٹوٹے ہوئے شوز کی وجہ سے ساتھی طالبات میرا مذاق اڑاتی ہیں تو آپ مجھے سکول شوز لے دیں ۔
الہی ٰبخش کھانا کھا کے لیٹ گیا تھکن سے چور بدن کو سہلاتے ہوئے آنکھیں موند لی، تو ثمرہ بولی ابو ایک بات بتائیں؟
کیا بات ہے ثمرہ؟ الہی ٰبخش نے پوچھا۔
ابو جان یکم مئی کو کس بات کی چھٹی ہے؟
بیٹا یکم مئی مزدوروں کا دن ہے پوری دنیا میں منایا جاتا ہے۔.
اچھا جی پھر تو آپ کو بھی چھٹی ہو گی ابو جی۔
بیٹا! لیبر ڈے کی اس چھٹی میں مزدوروں کو چھٹی نہیں ملتی
پر کیوں ابو !لیبرڈے کی چھٹی پر مزدور کا زیادہ حق بنتا ہے نا۔۔۔
ہاں میری گڑیا !مگر جیسا ہم چاہتے ہیں ویسا تھوڑی ہوتا ہے۔۔۔!
ویسے ابو اس چھٹی کی مجھے بہت خوشی ہے کیونکہ میری ٹیچر ہر مہینے کی پہلی تاریخ کو فیس مانگتی ہیں ،اس مہینے پہلی کی چھٹی ہے ابو اس مہینے میں ٹیچر کی مار سے بچ جاوں گی ۔ثمرہ بولی تو الہی ٰبخش سکتے میں آ کے سوچنے لگا یکم مئی کو ہر سال کی طرح اس بار بھی سمینارز ہوں گے، تقاریر کی جائیں گی، مزدورں کا معاشی قتل کرنے والے بڑے بڑے افسران چھٹی کو انجوائے کریں گے اور الہیٰ بخش جیسے مزدور دوگنا مزدوری کے ذریعے اپنی معاشی بدحالی کو تمام کرنے کی کوشش میں مصروف ہوں گے۔۔۔۔۔
کاش مزدوروں کا عالمی دن مناتے ہوئے ہم صرف تقاریر کے علاوہ عملی طور پر بھی کچھ کرتے تو کسی الہیٰ بخش کو خاص طور پر خود سے منسوب دن پر بھی مزدوری نہ کرنا پڑتی اور کسی ثمرہ کوفیس کی عدم ادائیگی پر مار کی وجہ سے یکم تاریخ سے ڈر نہ لگتا۔۔۔۔

No Comments

You must be logged in to post a comment.