September 24, 2017
You can use WP menu builder to build menus

بارسلونا(بی بی سی اپ ڈیٹ)ذیابیطس ٹائپ ٹو دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والا مرض ہے جو متعدد بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھاتا ہے۔تاہم یہ ایسا خاموش قاتل مرض ہے جس کا علم اکثر افراد کو اس وقت ہوتا ہے جب وہ کافی زیادہ بڑھ چکا ہوتا ہے جبکہ جسم پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوچکے ہوتے ہیں۔ذیابیطس کی مختلف علامات ہیں جو اس کی نشاندہی کرتی ہیں جیسے ضرورت سے زیادہ پیشاب آنا خصوصاً رات کو، پیاس کی شدت بڑھ جاتا یا ہر وقت پیاس، تھکاوٹ کا احساس اور خراشیں یا زخم جلد نہ بھرنا وغیرہ۔مگر کچھ علامات ایسی ہوتی ہیں جو واضح نہیں ہوتیں مگر یبشتر افراد میں وہ دیگر عام علامات کی بجائے سامنے آتی ہیں۔ایسی ہی ایک علامت کندھوں کے جوڑوں میں اکڑن اور تکلیف کا احساس ہے اور طبی ماہرین کے مطابق اسے بھی ذیابیطس ٹائپ کی علامات میں شامل کیا جانا چاہئے۔اس عارضے میں کندھوں کے جوڑ کے غلاف میں سوزش ہوتی ہے جس کی بناءپر جوڑ سخت ہوکر ہلنے جلنے سے قاصر ہوجاتے ہیں۔طبی ماہرین کے مطابق یہ ذیابیطس کے شکار میں توقع سے زیادہ عام علامت ہوتی ہے اور اکثر ان مریضوں کو یہ علم نہیں ہوتا کہ وہ ذیابیطس کے شکار ہوچکے ہوتے ہیں۔اس حوالے سے ایک طبی تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ عارضہ ذیابیطس کے شکار افراد کو جسمانی اور ذہنی دونوں طریقوں سے نقصان پہنچانے کا باعث بنتی ہے اور شوگر کے مریضوں میں کندھوں کا درد عام ہوتا ہے۔تحقیق کے مطابق ذیابیطس کے 27.5 فیصد مریضوں کو کندھوں کے کسی قسم کے عارضے کا سامنا ہوتا ہے۔تحقیق میں یہ بات سامنے نہیں آسکی کہ ذیابیطس کے مریضوں میں یہ شکایت اتنی عام کیوں ہوتی ہے۔اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل آف ڈائیبیٹس انویسٹی گیشن میں شائع ہوئے۔

No Comments

You must be logged in to post a comment.