September 24, 2017
You can use WP menu builder to build menus

بارسلونا(بی بی سی اپ ڈیٹ) آپ اکثر اپنی آنکھوں کو مسلتے ہیں ؟ اگلی بار ایسا کرنے سے پہلے یہ جان لیں کہ ایسا کرنا صحت کے لیے انتہائی سنگین ثابت ہوسکتا ہے۔جی ہاں واقعی آنکھیں مسلنا ایسی عادت نہیں جسے نظرانداز کردیا جائے بلکہ ایسا کرنے سے بچنا بہت ضروری ہے۔ویسے تو سب افراد میں آنکھیں مسلنے کی خواہش کسی نہ کسی وقت ضرور پیدا ہوتی ہے جو کہ غیر معمولی نہیں، عام طور پر لوگ انہیں اس لیے مسلتے ہیں کیونکہ وہ تھکاوٹ محسوس کررہے ہوتے ہیں، خارش یا سوجن بھی اس کی وجہ ہوتی ہے یا تناؤ ایسا کرنے پر مجبور کردیتا ہے۔آنکھوں کو مسلنے کی سب سے بڑی وجہ اس عضو میں خارش کا احساس ہونا ہے اور اسکے نقصانات ہیں مثلاََجب آپ انکھوں کو مسلتے ہیں تو اس کے ارگرد کے نازک ٹشوز پر بہت زیادہ دباؤ بڑھ جاتا ہے جس سے جلد کو نقصان پہنچتا ہے اور کولیگن نامی ہارمون کی سطح متاثر ہوتی ہے جو کہ جلد کو جوان اور ہموار رکھنے کا کام کرتا ہے۔ آنکھیں مسلتے ہوئے خون کی ننھی شریانوں کو نقصان پہنچا دینا ممکن ہوتا ہے جو کہ حلقوں اور آنکھیں سوجنے کا باعث بنتا ہے۔اگر آنکھ میں کچھ چلا گیا ہے تو مسلنے سے گریز کریں کیونکہ اس سے عارضی طور پر تو سکون ملتا ہے مگر یہ آنکھ کی سطح کے دبنے کا باعث بھی بنتا ہے جس سے قرینے میں لیکر پڑسکتی ہے۔عمر بڑھنے کے ساتھ بینائی کا متاثر ہونا قدرتی ہے، مگر آنکھیں مسلنا اس عمل کو تیز کردیتا ہے کیونکہ ایسا کرنے سے قرینے کی ساخت بدل جاتی ہے اور اس عارضے کوکروتونیکس کہا جاتا ہے جو کہ دیکھنے کے لیے روشنی کو مختلف کردیتا ہے اور بینائی تیزی سے کمزور ہونے لگتی ہے۔جیسا بتایا جاچکا ہے کہ مسلنے سے آنکھوں پر دبا[بڑھ جاتا ہے جس کے نتیجے میں اس عضو کے اندرونی سیال پر بھی دباؤ پڑتا ہے اور وہاں آنے والے دوران خون میں مداخلت ہوتی ہے۔ ایسا مسلسل کرنے سے موتیے جیسا مرض لاحق ہوسکتا ہے جو کہ بینائی ختم بھی کرسکتا ہے۔آپ کے ہاتھ دیکھنے میں تو صاف ہوسکتے ہیں مگر وہ جراثیموں سے پر ہوتے ہیں، انگلیوں کو آنکھوں کے ارگرد پھیرنا ان جراثیموں کو اس عضو میں منتقل کرسکتا ہے جس کے نتیجے میں آشوب چشم اور دیگر امراض کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر ہمیشہ ہدایت کرتے ہیں کہ کانٹیکٹ لینس پہننے سے پہلے ہاتھ لازمی دھوئیں اور گندے ہاتھوں سے کبھی بھی آنکھوں کو نہ چھوئیں۔

No Comments

You must be logged in to post a comment.