September 24, 2017
You can use WP menu builder to build menus

مرزا ندیم بیگ

ہسپانوی شہر اور صوبے کاتالونیہ کے دارلحکومت بارسلونا کویورپ میں بہت ہی مرکزی اہمیت حاصل ہے۔بارسلونا بلاشبہ اپنی خوبصورتی اوراس میں بسنے والے زندہ اور کشادہ دل لوگوں کا شہر ہے اور اسے اس اعتبار سے ’’یورپ کا لاہور‘‘ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔اس شہر کی وجہ شہرت اس کا خوبصورت موسم،ساحل اور رونق میلے ہیں۔یورپ کے شہروں سے واقفیت رکھنے والے جانتے ہیں کہ پیرس ،برسلز اور برلن جیسے شہر بھی رات آٹھ بجے کے بعد سنسان ہو جاتے ہیں مگر بارسلونا اس اعتبار سے منفرد اور یکتا ہے کہ یہاں پر دن کی رونقوں کا تو کیا ہی کہنارات بھی اپنی جولانیوں اور رعنائیوں سے اس شہر کی خوبصورتی میں اضافہ کررہی ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ سارا سال یہ شہر ہر موسم میں سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنارہتا ہے۔بارسلونا کے پررونق مقامات میں ’’پلاسا کاتالونیا‘‘،پلاسا ہسپانیہ‘‘رامبلہ کاتالونیا‘‘،’’رامبلہ روال‘‘اور’’ ناؤ دے لارامبلہ ‘‘شامل ہیں۔
بارسلونا کے ’’ناؤدے لارامبلہ‘‘سب سے پررونق علاقہ ہے،جس کا ایک سرا ’’پلاسا کاتالونیا ‘‘سے شروع ہوتا ہے تو دوسرا سرا ساحل سمندر پر واقع خوبصورت مقام ’’پلاسا کولون ‘‘پر ختم ہوتا ہے۔اس کی لمبائی ڈیڑھ کلومیٹر کے لگ بھگ ہے اور اس پردن رات انسانوں کا سیلاب رواں دواں رہتا ہے۔سیاحتی مقام ’’لا رامبلہ‘‘کو جمعرات کے روز دہشت گردوں نے ’’ماتم کدہ ‘‘بنادیا جب دہشت گرد نے اپنی وین کو پیدل چلنے والوں پر چڑھا دیا تھا،جس کے نتیجے میں اب تک چودہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد سو کے لگ بھگ ہے۔سپین میں جب بارسلونا میں دہشت گردی کا واقعہ رونما ہوا اسی لمحے سپین کے دوسرے شہرتاراگونا سے قریب ایک دوسرے مقام پر پولیس نے بروقت کارروائی کرکے مبینہ طور پر خودکش حملوں کو ناکام بنادیا اور اس واقعے میں ملوث پانچ مشتبہ افراد کو گولیوں سے ماردیا۔یورپی ملک سپین میں دہشت گردی کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں تھا بلکہ اس سے قبل مارچ 2004، میڈرڈ کے مرکزی ریلوے سٹیشن پر 191 انسان موت کے منہ میں چلے گئے تھے۔ میڈرڈ ریلوے سٹیشن پر بموں کے پھٹنے سے پندرہ سو سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔یورپ میں اس سے قبل لندن ،پیرس ،برسلز،مانچسٹر،سٹاک ہوم،برلن ،استنبول،کوپن ہیگن اور دیگر شہر دہشت گردی کا شکاربن چکے ہیں۔
سپین کے دو شہروں میں ہونیوالے ان دو واقعات نے خفیہ ایجینسیوں کے ان خدشات کو سچ ثابت کردیا جس کا اظہار وہ ایک عرصے سے کررہی تھیں کہ بارسلونا دہشت گردی کا نشانہ بن سکتا ہے اور صوبہ کاتالونیا دہشت گردوں کاہدف پر ہے۔یورپی ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹ ہے کہ کہ دہشت گرد تنظیم ’’اسلامک اسٹیٹ‘‘نے یورپی ممالک میں حملوں کے لیے ساٹھ سے اّسی کی تعداد میں شدت پسندوں کو یورپ روانہ کیا ہے۔
سپین بھی بدقسمتی سے ان ممالک میں شامل ہے جو دہشت گردی کا شکار ہے۔پہلے اس ملک کو ایک مقامی دہشت گرد تنظیم ’’ایٹا‘‘ کی دہشت گردی کا سامنا تھا جس کو سپین کے علاقے’’پائس باسکو‘‘یعنی باسک کنٹری کی علیحدگی کی تحریک کے عسکری ونگ کی حیثیت حاصل ہے۔اس تنظیم پر سپین اورفرانس کے قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے بڑی حد تک قابو پالیا ہے اور اس کی سرگرمیاں اب نہ ہونے کے برابر ہیں۔دنیا میں ’’نائن الیون ‘‘ کے واقعے کے بعد مسلمان تحریکوں کے عسکری ونگز نے جب اپنی کاررائیوں کا آغاز کیا تو سپین بھی اس کا نشانہ بنا اورمارچ 2004 میں سپین کے دارلحکومت میڈرڈ کے مرکزی ریلوےسٹیشن کا واقعہ اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔
سپین سمیت یورپ کے دیگر ممالک میں دہشت گردی کے واقعات میں براعظم یورپ سے قریب تر دوافریقی مسلمان ممالک الجزائر اور مراکش کے نوجوان شامل ہیں ۔یہ نوجوان یورپ میں اپنی ’’معاشی بھوک‘‘مٹانے کیلئے آتے ہیں مگر اپنے ممالک کے غیر منصفانہ اور معاشی استحصال پر مبنی نظاموں کے ردعمل کی وجہ سے بے راہ روی اور گمراہی کے راستے پر چل پڑتے ہیں اور مذموم مقاصد کیلئے قائم تنظیموں کے ہتھے چڑھ کر انسانیت کے دشمن بن جاتے ہیں۔
ان واقعات کے سدباب کیلئے ضروری ہے ان ممالک کے نظاموں کو تبدیل کیا جائے اور جہاں استحصالی بادشاہتیں قائم ہیں اور گھٹن کے ماحول پر مبنی نظام قائم ہیں ان کا قلع قمع کیا جائے کیونکہ یہ استحصالی نظام نوجوان نسل کے ذھنوں کو تباہ کرنے میں ممدومعاون کا کردار ادا کررہے ہیں اوران ممالک کی نوجوان نسل کہیں مذہب اور کہیں کسی عصبیت کی بنیاد پر انتقامی راستے پر چل رہی ہے ۔اگر ان معاشروں میں انسانیت کی فلاح اور بہبود کے نظام قائم ہوں تو نوجوان نسل کبھی بھی ان ممالک کے اقتداروں پر قابض غاصبین کے ناپسندید ہ سرگرمیوں اور غیر منصفانہ اقدامات کی وجہ سے انتقام کے راستے پر چلیں۔
یورپی ممالک کیلئے بھی ضروری ہے کہ وہ ماضی میں افغانستان اور عراق میں جھوٹی رپورٹوں کی بنیاد پر عالمی طاقت کے حملوں میں ہراول دستے کا کام مت کریں جس کی بنیاد پر ان ممالک میں قائم حکومتوں کا قلع قمع ہوگیا اور ہنستے بستے ملک کھنڈر بن گئےاور نتیجہ کیا نکلا کہ ان ممالک کی نوجوان نسل عالمی طاقت کا دم چھلہ بننے والے ممالک کی دشمن بن گئیں اور نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ان حالات میں یورپ اور عالمی طاقت امریکہ کو بھی اپنی’’اداوں ‘‘پر غور کرنا ہوگا اور ’’شکایت‘‘کا کوئی موقع نہیں دینا چاہیئے۔

No Comments

You must be logged in to post a comment.