September 24, 2017
You can use WP menu builder to build menus

تحریر:صائمہ چوہدری

پاکستان میں لاوارثوں کا وارث ،معاشرتی طور پر گرے پڑوں کا سہارا اور انسانیت کے سب سے بڑے خدمت گذار مولاناعبدالستار ایدھی کی دنیا فانی سے رخصتی پاکستان کے عوام کے لیے ہی نہیں پوری دنیا کےلئےعظیم نقصان ہے جس کی تلافی ہونا ممکن نہیں۔عبدالستار ایدھی کی سماجی خدمات کی کوئی حد نہیں ہے وہ پاکستان کے علاوہ دنیا کے کئی مصائب اور آلام میں گھرے ہوئے لوگوں کی مدد کیلئے پہنچتے تھے۔ایدھی صاحب نے جو کارہائے نمایاں سر انجام دئیے بدقسمتی سے وہ کام حکومتیں بھی نہ کر سکیں اگرچہ سماجی اور فلاحی کام حکومتوں کی ذمہ داری ہوتا ہے لیکن ایدھی صاحب نے اس کام کے لیے اپنی زندگی صرف کر دی۔’ایدھی موجودہ زمانے کی عظیم ترین شخصیات میں سے ایک تھے، جنھوں نے اپنی ساری زندگی انسانیت کے خدمت کے لیے وقف کر رکھی تھی اور وہ ایک آئیکون اور آنے والی نسلوں کے لیے مثال ہیں۔ایدھی صاحب ا س اعتبار سے بھی منفرد تھے کہ انہوں نے اپنی زندگی دکھی انسانیت کی خدمت اور فلاح کے لیے وقف کر رکھی تھی۔عبدالستار ایدھی نے بھوکوں کو کھانا کھلایا، بے گھروں کو آسرا دیا، لاوارثوں کو تحفظ فراہم کیا اور دھتکارے ہوؤں کو محبت دی اور یہ تمام کام آج بھی زور وشور اور سماجی خدمت کے جذبے کے ساتھ جاری ہیں۔عبدالستار ایدھی کے معاملے میں عالمی اداروں بالخصوص ’’نوبل انعام ‘‘ دینے والے ادارے کا رویہ ناقابل فہم اور قابل مذمت ہے کیو نکہ پوری دنیا میں اس انعام کا عبدالستار ایدھی سے زیادہ حقدار کوئی نہیں تھا اور ہے حالانکہ ایدھی صاحب نے جو خدمات سرانجام دی ہیں اس کے لیے امن کا نوبیل انعام کی کوئی اہمیت نہیں،ان کیلئے سب سے بڑاانعام لوگوں کا ان پر اعتماد تھا اور ان کا احترام تھا یہی وجہ ہے کہ ان کے لاتعداد ادارے حکومتی فنڈز کے بغیر لوگوں کی خیرات،صدقات،عطیات اور ہدیوں پر چل رہے ہیں۔ایدھی فاؤنڈیشن کے بانی عبدالستار ایدھی نے پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری کی جانب سے بیرون ملک علاج کروانے کی پیشکش مسترد کر دی ہےاور موقف اختیار کیا تھا کہ میں پاکستان ہی میں رہنا چاہتا ہوں اور پاکستان کے سرکاری ہسپتالوں سے اپنا علاج کرواؤں گا۔ایدھی صاحب کی زندگی میں جو عزت آئی اور آج بھی لوگوں کے دلوں میں موجزن ہے اس کیلئے کئی حکمران ترسے مگر انہیں وہ عزت نصیب نہ ہوسکی۔ایدھی صاحب آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں اور بوڑھا اور نحیف شخص مرنے کے بعد بھی اپنی آنکھیں عطیہ کر کے کسی اندھے کی آنکھوں کا نور بن گیا۔ایدھی صاحب کبھی نہیں مریں گے کیونکہ انکا مشن انکی زندگی کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ایدھی صاحب اس شعر کا مصداق کامل تھے کہ

مل گئے الفت میں مجھکو دونوں عالم کے مزے
تم مری آنکھوں میں ہو دل میں تمہارا درد ہے

اور دعا ہے کہ

آسمان تیری لحد پہ شبنم آفشانی کرے
سبزہ نورستہ اس گهر کی نگہبانی کرے

No Comments

You must be logged in to post a comment.