September 24, 2017
You can use WP menu builder to build menus

تحریر:مرزا ندیم بیگ

مولانا عبدالستار ایدھی صاحب ایک عظیم انسان تھے اور یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ان کےگزشتہ سال آج ہی کے دن انتقال سے ایدھی ہومز اور فاؤنڈیشن سے وابستہ افراد ہی نہیں پوری قوم یتیم ہو گئی تھی ۔ایدھی ہوم میں پروان چڑھنے والی لا وراث لڑکیوں کی شادی پر بلقیس ایدھی اور ایدھی صاحب جذبات بالکل ایسے تھے حقیقی ماں باپ کے ہوتے ہیں وہ لڑکیاں رخصتی کے وقت دونوں کو ’’ممی اور پاپا ‘‘کہہ کر گلے لگیں اور خوب روئیں۔ ایدھی صاحب کی آنکھیں بھی نم ہوتی تھیں۔مولانا عبدالستار ایدھی صاحب بظاہر ایک سادہ سا آدمی ہر نمود و نمائش سے پاک درحقیقت کتنا بڑا آدمی ہے۔دنیا کی سب سے بڑی پرائیویٹ ایمبولینس سروس، سرد خانے، میت رکھنے کے مراکز ہیں اور یہاں تک جب ماں کسی مجبوری کی بنا پر اپنے لختِ جگر ایدھی کی گود میں ڈال دیتی تھی اور اپنوں کی محرومیوں کے شکار بوڑھے بزرگ بھی اسی مسیحا کے سائبان تلے آ کر امان پاتے ہیں۔مرنے کے بعد گور و کفن ملنا ہر انسان کا حق ہے اور حکومتوں کا فرض ہے کہ وہ اس کی دستیابی کو ممکن بنائیں لیکن جس ملک میں ایک بم دھماکے میں کئی افراد کے پرخچے اڑ جائیں تو ایسے میں میت کے قریب آتے ہوئے گھر والے بھی ہچکچاہتے ہوں لیکن مولانا عبدالستارایدھی اور انکے ادارے کے کارکن نجانےکتنی میتوں کو سٹرک سے اُٹھا کر آخری آرام گاہ تک لے جاتے ہیں۔انسانیت، ہمدردی، باہمی خیال، خدمتِ خلق کا جذبہ سادگی اور اچھائی جیسی صفات کو اگر ایک لفظ میں بیان کیا جائے تو شاید ’’ایدھی‘‘سے مناسب کوئی لفظ نہیں ہو گا۔ایدھی صاحب انسانیت کیلئے ہمدردی کا پیکر تھے۔بقول شاعر۔۔۔

آدمی کا آدمی ہر حال میں ہمدرد ہو
اک توجہ چاہئے انساں کو انساں کی طرف

ایدھی صاحب کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ ان پڑھ ہونے کے باوجود دنیا کے بڑے ترین فلاحی مراکز کے مقابلے میں ’’ایدھی فاؤنڈیشن ‘‘کو کھڑا کردیا اور انسانیت کو بتا دیا کہ یہ دنیا کی ڈگریاں انسان کو معلومات کا خزانہ تو دے سکتی ہیں مگر انسانیت کے دکھوں کا ادراک نہیں دے سکتیں ،الا ماشاءاللہ۔دنیا کی تاریخ میں پڑھے لکھوں نے جہاں انسانیت کی خدمت کی تو اس سے بڑی خباثت یہ بھی کی کہ انسانیت کی تباہی کیلئے ’’مہلک ترین ہتھیاروں ‘‘کے انبار بھی دئیے۔بقول شاعر۔۔۔

آدمیت اور شے ہے علم ہے کچھ اور شے
کتنا طوطے کو پڑھایا پر وہ حیواں ہی رہا

No Comments

You must be logged in to post a comment.